نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نکیال: حکام تعلیمی مسائل اور ٹیچرز کے آن ڈیوٹی معاملات پر عوامی تشویش دور کریں۔عوام علاقہ کریلہ مجہان ، دھروتی موہڑہ سے اظہار یکجتی کرتے ہیں ۔جموں کشمیر نیپ/جموں کشمیر این ایس ایف کا حکام سے مطالبہ

نکیال (پریس ریلیز) نکیال: حکام تعلیمی مسائل اور ٹیچرز کے آن ڈیوٹی معاملات پر عوامی تشویش دور کریں۔عوام علاقہ کریلہ مجہان ، دھروتی موہڑہ سے اظہار یکجتی کرتے ہیں ۔جموں کشمیر نیپ/جموں کشمیر این ایس ایف کا حکام سے
مطالبہ ۔ https://www.facebook.com/share/p/17hPPzaqvt/ نکیال، 27 جنوری 2025 – تفصیلات کے مطابق آج جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی اور جموں کشمیر این ایس ایف کے راہنماؤں شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ ، اویس احمد سبحانی ، سردار عاصم خان،غلام مرتضیٰ چودھری ،کامریڈ قیصر جاوید ،محمد خرم ، شفاعت چودھری ، سردار ادریس خان، خان شمریز ،حاجی تبسم ،داود طارق ، الحاج سجاد نیازی، سردار ہارون شمسی سردار، ارشاد چودھری ، عبد المعز عالم چودھری ، مہیب چوہدری ، زاہد چوہان ،عمران رشید، حافظ علی احمد ، سید نقیب کاظمی، کاظم بٹ کشمیری ، میاں نعیم احمد ، راجہ سنی منیر کشمیری ،سردار توقیر انور نے، ورچوئل اجلاس کے بعد اپنی جاری کردہ پریس ریلیز میں حکام کو گورنمنٹ مڈل سکول کریلہ مجہان، نکیال اور گورنمنٹ بوائز مڈل سکول دہروتی موہڑہ میں تعلیمی اداروں کی حالت اور ٹیچرز کی آن ڈیوٹی کے معاملے پر عوامی تشویش کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ، جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے نکیال اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں تعلیمی مسائل کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ راہنماؤں نے کہا کہ گورنمنٹ مڈل سکول کریلہ مجہان نکیال کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے کیونکہ وہاں کے تین ایلیمنٹری ٹیچرز کو ترکنڈی کھنڈہار اور کھنڈہار بالا ڈیوٹی پر بھیجا گیا ہے، حالانکہ سکول میں پہلے سے صرف 4 ٹیچرز موجود ہیں۔ اسی طرح، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول دہروتی موہڑہ میں بھی غیر قانونی طور پر ٹیچرز کو آن ڈیوٹی کر کے دیگر اداروں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں کے افراد نے این ایس ایف اور نیپ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔ رہنماؤں نے ان مسائل کو حل کرنے کی حکام سے اپیل کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کی یہ اقدامات تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور معیار کو متاثر کر رہے ہیں اور عوام کو مزید استحصال کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مزید برآں، جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نکیال میں تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ ٹیچرز کی کمی، بوسیدہ عمارتوں اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کے باعث بچے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ یہ حکام کی ناکامی ہے کہ وہ تعلیمی مسائل کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام اب کمرشل بن چکا ہے اور یہ غریب طلباء کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں اور معیاری تعلیم مل سکے۔ رہنماؤں نے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ حکمرانوں کے ظلم و استحصال کے خلاف متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہوں اور ان کے اقدامات کا محاسبہ کریں۔ جاری کردہ:- جموں کشمیر نیپ/جموں کشمیر این ایس ایف ( نکیال)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

نکیال/ کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔

نکیال کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ (ممبر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی) سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KS Relief) کی جانب سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے لیے 14.2 ملین ڈالر کا تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ یہ خیرسگالی پر مبنی فوڈ سیکیورٹی پیکج سینکڑوں سیز فائر لائن کے خاندانوں تک پہنچنا تھا۔ لیکن افسوس، تحصیل نکیال میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی — بندربانٹ، اقربا پروری، اور محرومی! تقریبا سرکاری ملازمین نے ہاتھ صاف کر دیا۔ نکیال، جو کہ سیز فائر لائن سے براہِ راست متاثرہ علاقہ ہے، برسوں سے ریلیف، باڈر پیکج، اور خیراتی امداد کا مرکز رہا ہے۔ مگر ان تمام امدادی مراحل میں اکثریت کو محرومی، تذلیل اور نابرابری ہی ملی۔ سعودی امداد ہو یا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا راشن ۔۔۔ نکیال کی عوام کے لیے یہ صرف فوٹو سیشن اور سیاسی نمائش کا ایک اور موقع بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ام...

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب* !" تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ ۔ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی کبھی کبھی ایک جملہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر راجہ فاروق حیدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ *> "عام آدمی کون ہوتا ہے؟ عام آدمی کو کون پوچھتا ہے؟ وہ صبح کام پر جاتا ہے، شام کو منہ لٹکا کے آ جاتا ہے!* " یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ اُس سوچ کی عکاسی ہے جو خود کو "خاص" سمجھ کر عوام کو محض غلام، نوکر یا تماشائی تصور کرتی ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا یہ تکبر صرف ان کی ذاتی سوچ نہیں، یہ اُس نظامِ سیاست کا گھمنڈ ہے جو استحصالی، مفاد پرست، اور عوام دشمن رویوں سے جنم لیتا ہے۔ جو اشرافیہ/ حکمران طبقات کی سوچ کا مظہر ہے کہ وہ عوام کے بارے حقیقی معنوں میں کیا سوچ رکھتے ہیں ۔ راجہ فاروق حیدر وہ چہرہ ہے جس نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے تلوے چاٹے، جنرل باجوہ کی جھولی میں جا بیٹھے ، مفاد پ...