نکیال، بریکنگ نیوز:-
ڈبسی کے علاقوں میں پانچ روز بعد بجلی بحال ۔ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، نکیال انتظامیہ اسسٹنٹ کمشنر ، ایس ڈی او برقیات کی قابل ستائش کاوشیں ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ڈبسی بجلی بندش مسلہ پر دی جانے والی 13 جنوری کی ڈبسی کی احتجاجی کال کینسل ۔ عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا ہے ۔ ایکشن کمیٹی کا عزم۔
12 /01/2025
یونین کونسل ڈبسی کے علاقوں بھچانوالہ ، سینسی دھڑا ، مرنیاں ، کھینٹی گالہ وغیرہ کے دیہاتوں کی آخر کار عوامی مزاحمت جدوجہد سے 5 ویں روز بجلی بحال ، اندھیروں میں ڈوبے علاقے اور گھر روشن۔ بچے، عورتیں عوام خوشی سے جھوم اٹھے ، چہروں پر چمک ۔
تفصیلات کے مطابق 8 جنوری کو مزکورہ بالا علاقوں کی بجلی ایک درخت کے گرنے سے تاریں ڈھیلی ہونے کی وجہ سے بند ہو گی تھی۔ جس پر عوام علاقہ نے محکمہ برقیات کے مقامی اہلکاروں کو کہا لیکن بجلی بحال نہ ہو سکی،
جس پر عوام علاقہ کا ایک نمائندہ مقامی متاثرہ وفد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کے پاس پیش ہوا ، ممبران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ ، حاجی تبسم، سردار عاصم خان ، معز عالم نے ہمراہ وفد ہنگامی پریس کانفرنس کی، اور 13 جنوری کو احتجاج کی کال دی تھی،
ممبران نے اسسٹنٹ کمشنر نکیال سیماب اسلم چودھری اور ایس ڈی او برقیات محمد زین کی توجہ اس مسلہ کی جانب مبذول کرائی ،
بجلی لائن اب بحال کر دی ہے ، نئے کھمبے لگا دئیے ہیں ، تار لائن کھینچ دی ہے۔ اس لائن کا مسلہ حل کر دیا ہے ، انسانی زندگیوں کے لیے لاحق خطرہ بھی تاروں کی شکل میں ختم کر دیا ہے ۔
یاد رہے کہ اس مقام پر اس لائن کا بجلی کا کھمبا موجود نہیں تھا۔ بجلی کی تاریں ایک درخت کے ساتھ بجلی کی تار باندھنے والے ٹول ڈی کے ساتھ باندھی تھی۔
اس موقع پر محکمہ کے اہلکار جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مسلسل کام میں لگے رہے ہیں ۔
آج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آج شام بجے فائنل ایک گھنٹہ کا الٹی میٹم دیا تھا۔ ایک گھنٹہ سے قبل بجلی نے گھروں کو روشن کر دیا ہے ۔
اس موقع پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ نے اسسٹنٹ کمشنر نکیال اور ایس ڈی او برقیات نکیال کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہماری کال پر خصوصی دلچسپی لی، مسلسل رابطے میں رہے اور بجلی کے مسائل کو حل کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ جو کہ خوش آئند اور قابل ستائش ہے۔ کہ انہوں نے دیانت داری سے اپنی زمہ داری کو پورا کیا ہے ۔
بجلی کے آن ہونے اور مسائل حل ہونے پر شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، جواد انور خان ایڈووکیٹ نے متاثرین سے بات چیت کی، عوامی ایشو مسائل پر عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرائی۔
*نکیال کے موجودہ وزیر حکومت جاوید بڈھانوی صاحب اور سابقہ وزیر حکومت سردار فاروق سکندر صاحب سے نکیال کے مریض کے لیے علاج کے لیے کل صبح نو بجے تک اپنی تنخواہوں پنشن سے امداد دینے کا ایکشن کمیٹی کا مطالبہ* ۔ تفصیلات کے مطابق *نکیال کے کچھ رپورٹر، سوشل میڈیا صارفین ایک نوجوان مریض کہ اندرلہ ناڑ کا رہائشی ہے ۔اس کی اپیل کی پوسٹ وائرل کر رہے ہیں۔ جو اس وقت راولپنڈی، پاکستان میں تشویشناک حالت میں زیر علاج ہے۔* *لیکن سوال یہ ہے کہ نکیال کے موجودہ تین وزارتوں کے مالک بڈھانوی صاحب اور سابقہ وزراء صاحبان سے کوئی یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ آپ اس کا علاج کیوں نہیں کراتے؟ * نکیال میں جدید ہسپتال کیوں نہیں دیا گیا؟ آپ لوگ، مثلاً وزیر صاحب اور سابقہ وزراء، اپنی پنشنوں اور تنخواہوں سے اس مریض کا علاج کیوں نہیں کراتے؟ خود تو یہ حکمران بیرونِ ملک اور انتہائی مہنگے ہسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، مگر عوام ۔۔۔۔خاص طور پر غریب مزدور ۔۔۔۔کے لیے یہاں نکیال میں بنیادی صحت کی سہولت تک موجود نہیں۔ نہ ڈاکٹر، نہ اسٹاف، نہ دوا۔ بس ایک ہی نسخہ۔۔۔راولپنڈی ریفر کریں! اور پھر وہی پرانی کہانی ۔۔۔۔۔ ۔۔ س...


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں