نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بحران تشویشناک

نکیال کی ڈبسی سیز فائر لائن پر بجلی کی بندش کا بحران تشویشناک ، 13 جنوری سیز فائر لائن ڈبسی پر احتجاجی مارچ کا اعلان ۔ سیز فائر لائن ڈبسی نکیال کے علاقوں بھچانوالہ ، کھنیٹی گالہ ، ناون ، سینی دھڑا، مرنیاں ،اندھیروں کی نزر، چار دن سے بجلی بند ، نظام زندگی مفلوج ، عوام پتھر کے زمانے میں چلے گے، لالٹین ، لکڑی کے دستوں/مٹھے کا چلن پر عوام مجبور ، خواتین بشمول حاملہ خواتین پیدل کئی کلو میٹر سروں پر پانی اٹھا کر لانے پر مجبور ۔ بجلی سے جڑی خوشیاں ، معاملات زندگی درہم برہم ، مستقبل دھاو پر لگ چکا ، عوام سراپا احتجاج ، آج 11 جنوری کی شب تک بجلی بحال کرنے کی ڈیڈ لائن ، بصورت دیگر ، 13 جنوری سیز فائر لائن پر احتجاج/ مارچ کا اعلان ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کی متاثرین سے اظہار یکجتی ، کال کی حمایت کا اعلان ۔ متاثرین کی ممبران ایکشن کمیٹی سے ملاقات ، مسائل مطالبات سامنے رکھ دئیے۔ ممبران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ڈی او نکیال کو مزکورہ بجلی مسائل و اس تناظر میں ہونے والے استحصال سے مطلع کرتے ہوئے تحریری طور پر متاثرین کی دادرسی کے لیے رجوع بھی کیا ہے ، جس پر اسسٹنٹ کمشنر ، ایس ڈی او صاحبان نے ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ تین دن سے محکمہ کے اہلکار متاثرین کو انگلیوں پر ناچنے پر مجبور کیے ہیں۔ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ عوامی اشتعال سموار کو پھوٹے گا ۔ تفصیلات کے مطابق سیز فائر لائن کے علاقے نکیال میں گزشتہ چار روز سے جاری بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ یونین کونسل ڈبسی، بھچانوالہ، کھینٹی گالہ، سینسی دھڑا اور ناون کے علاقے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں، جس کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات میں رکاوٹ آئی ہے۔ بجلی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے، اور عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 8 جنوری 2025 کو یونین کونسل ڈبسی کے دیہی علاقوں کی بجلی کی لائن ایک درخت گرنے کی وجہ سے متاثر ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد محکمہ برقیات کے اہلکاروں نے بجلی کی بحالی کے لیے مختلف جواز پیش کیے اور یہ دعویٰ کیا کہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے ایچ ٹی پول کی ضرورت ہے۔ ۔تاہم، مقامی متاثرین کے مطابق یہ لائن پچیس سے تیس سال سے استعمال ہو رہی تھی اور صرف درخت کے گرنے سے لائن میں معمولی سی خرابی آئی تھی، جسے جلد درست کیا جا سکتا تھا۔ درخت کی وجہ سے تاریں ڈھیلی ہوئی ہیں جن کو کھینچ کو بجلی بحال کی جا سکتی تھی اور سکتی ہے ۔لیکن اہکاروں نے بجلی بحال نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اس کے باوجود، محکمہ برقیات کے مقامی اہلکاروں نے اس مسئلے کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی دکھائی۔ اس دوران عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خصوصاً خواتین، بشمول حاملہ خواتین، کئی کلومیٹر پیدل چل کر پانی لانے پر مجبور ہیں، کیونکہ بجلی سے چلنے والی پانی کی موٹر بند ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی افراد لالٹینوں کی روشنی میں اپنے گھروں کی ضرورتیں پوری کرنے پر مجبور ہیں،اور گاؤں کی بیٹی کی شادی بھی ایسے حالات میں کی ہے جبکہ موبائل چارج کرنے کے لیے دیگر علاقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی عمائدین اور عوام نے متعدد بار انتظامیہ اور محکمہ برقیات سے شکایات کیں، لیکن کسی بھی سطح پر اس معاملے کا سنجیدگی سے حل نہیں نکالا گیا۔ اس پر عوام نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کے ساتھ مل کر احتجاج کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے ممبران، جن میں شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، جواد انور خان ایڈووکیٹ، حاجی تبسم، عاصم خان اور معز عالم شامل ہیں، نے اس بات کا اعلان کیا کہ اگر 11 جنوری کی رات تک بجلی بحال نہیں کی گئی تو 13 جنوری کو سیز فائر لائن پر بڑے احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس موقع پر کہا کہ وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کا حل فوری طور پر نہیں نکالا گیا تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی، اور اس کے بعد حکومت اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نے عوام سے اپیل کی کہ وہ برادری، پارٹی یا علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق کی جدوجہد میں متحد ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی طاقت اور ایکتا کے ذریعے ہی اس استحصال کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف مقامی انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور حکومتی غفلت کس حد تک انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اس وقت علاقے میں بجلی کی بحالی ایک سنگین ضرورت بن چکی ہے اور عوام کی امیدیں حکام کے فوری اور سنجیدہ اقدامات پر وابستہ ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری کھمبے دے کر بجلی کے مسائل کو حل کریں ، اور جہاں کھمبے موجود ہیں وہاں سرکاری مداخلت سے کھمبے ٹرانسفارمر عوامی استعمال میں لائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مزکورہ بالا مسائل سننے کے بعد ہم بے سخت اضطراب میں ہیں کہ ہماری عوام کا اس قدر بدترین ذہنی و معاشی جسمانی استحصال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے حکام پر واضح کیا کہ وہ متاثرین کا اب ایک گھنٹہ ہی نہیں ایک منٹ کا استحصال نہیں ہونے دیں گے ۔ اب فیصلہ میدان جدوجہد میں ہوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

نکیال : شیعہ سنی فرقہ پرستی اور معصومیت پر ہونے والا حملہ، تشویشناک ؟؟

نکیال : شیعہ سنی فرقہ پرستی اور معصومیت پر ہونے والا حملہ، تشویشناک ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، نکیال کوٹلی،سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال نکیال میں گزشتہ روز پیش آنے والا دردناک حادثہ، جس میں ایک پورا خاندان حادثے کا شکار ہوا، دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ معصوم بچی کی موت، ماں کا کوما میں چلے جانا، اور باپ کا اپاہج ہو جانا— یہ سب مل کر انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ ابھی اس صدمے سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ سوشل میڈیا پر ایک شرمناک مہم سامنے آئی: "اس بچی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے کیونکہ وہ اہل تشیع ہے۔" یہ کیسا ظلم ہے؟ یہ کون سی انسانیت ہے؟ کیا ہم نے مذہب، مسلک اور فرقہ بندی کو انسانیت سے بھی مقدم کر دیا ہے؟ کیا معصومیت اب نظریات کی قربان گاہ پر چڑھائی جائے گی؟ ایک ننھی کلی جو کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی، اس کے جنازے کو بھی مسلک کی بنیاد پر متنازعہ بنایا جائے گا؟ یہی نکیال تھا جہاں رواداری، بھائی چارے، اور انسان دوستی کی مثالیں قائم کی جاتی تھیں۔ لیکن آج نکیال کے افق پر فرقہ واریت کے سیاہ بادل چھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ک...

*یہ شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں ہیں! انسپکٹر نوید چودھری اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کون؟*

*یہ شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں ہیں! انسپکٹر نوید چودھری اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کون؟* تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ (ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی) سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال گزشتہ شب راولاکوٹ کے قریب کھائی گلہ کے مقام پر پولیس آفیسران کی ایک گاڑی حادثے کا شکار ہوئی، جس میں پانچ افسران شہید ہو گئے۔ ان شہداء میں انسپکٹر نوید احمد چودھری کا نام خاص طور پر دل کو چیرتا ہے، جن کا تعلق تحصیل کھوئی رٹہ سے تھا۔ وہ حال ہی میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے۔ آج نہ صرف کھوئی رٹہ، بلکہ نکیال سمیت پورے خطے پر سوگ کی کیفیت طاری ہے۔وہ نکیال میں دیانت داری ، فرض شناسی کی مثال قائم کر چکے تھے ۔ قارئین کرام! یہ حادثہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے نظام پر ایک فردِ جرم ہے! یہ سڑکیں شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں بن چکی ہیں۔ یہ موڑ اندھے نہیں، یہ نظام اندھا ہے۔۔۔نہ سیفٹی وال، نہ شفاف شیشے، نہ حفاظتی اصول۔ ہر طرف موت کا کنواں ہے۔یہ "حادثے" نہیں، دراصل قتل ہیں اور ان کے قاتل موجودہ و سابقہ حکمران، محکمہ شاہرات، کرپٹ ٹھیکیدار اور بدعنوان سسٹم ہیں۔ انسپ...