نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آٹے کی قیمتوں کی تحقیقات اور عوامی شکایات کا ازالہ

رپورٹ برائے نکیال/101/2025 مورخہ: 10 جنوری 2025 موضوع:- آٹے کی قیمتوں کی تحقیقات اور عوامی شکایات کا ازالہ تفصیل: فوڈ انسپکٹر سردار ندیم خان نے گزشتہ روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال فتح پور تھکیالہ کی درخواست پر متعلقہ سیکٹرز کے عوام کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے موضع ترکنڈی کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے آٹے کی زائد قیمتوں کے بارے میں تفصیلی تفتیش کی اور ڈیلروں سمیت مقامی عوام و کنزیومرز سے ملاقات کی۔ انسپکٹر نے آٹے کی قیمتوں کی جانچ پڑتال کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیلرز ضابطہ کے مطابق آٹے کی ترسیل کر رہے ہیں اور گاہکوں/صارفین کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مجاز اتھارٹی نے عوامی شکایات کے حوالے سے پلائی رتہ گالہ جندروٹ سلون کے علاقے میں بھی تحقیقات کیں۔ شکایات کنندگان نے اس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان کی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ اس کے بعد فوڈ انسپکٹر سردار ندیم خان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ، سردار علی افضل ایڈووکیٹ ، نوید انجم عاصی ایڈووکیٹ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آٹے کی ترسیل کے مسائل اور عوامی شکایات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ممبران نے انسپکٹر کی جانب سے عوامی شکایات کے حل کے لیے کی جانے والی انکوائری اور تفتیش کو سراہا اور اس عمل کو قابل ستائش قرار دیا۔ ممبران کمیٹی نے مزید کہا کہ سستا آٹا تین شہداء کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ زائد قیمتوں پر آٹے کی فروخت شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے اور اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عوام اور آٹا صارفین سے درخواست کی کہ اگر انہیں آٹے کی زائد قیمتوں یا دیگر مسائل کا سامنا ہو تو وہ فوڈ انسپکٹر یا اسسٹنٹ کمشنر نکیال فتح پور تھکیالہ کو تحریری درخواست دیں اور رشوت یا کرپشن کی صورت میں بیان حلفی کے ساتھ شکایت درج کرائیں۔ شکایات کی ایک عکسی کاپی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کور کمیٹی کو بھی فراہم کی جائے۔ اگر مجاز فورم پر شکایات کے حل میں تاخیر ہوتی ہے یا ان پر مناسب کارروائی نہیں کی جاتی تو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کی ذیلی ونگ لیگل اینڈ ایگزیکٹو کمیٹی اس پر ضابطہ کارروائی اور احتجاجی عمل شروع کرے گی۔ اس کے علاوہ، کمیٹی عوامی شکایات کی خود مانیٹرنگ کرے گی اور مناسب وقت کے بعد شکایات کے حل نہ ہونے پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ممبران کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ و مجاز فورم موجود ہیں اور متاثرین بغیر کسی فیس یا اخراجات کے ان فورمز سے رجوع کریں۔ کمیٹی ان مسائل کی مسلسل مانیٹرنگ کرے گی تاکہ ان کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ ممبران نے اس موقع پر کہا کہ جو حکام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی شکایات، مسائل اور مطالبات پر آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بخوبی احسن طریقے سے پورا کریں گے، اور مسائل کے حل کے لیے بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔ لیکن عوامی مسائل کے خلاف قانون و ضابطہ، انسانی اور عوامی امنگوں کے برعکس کسی بھی عمل کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اختتام: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ جدوجہد جمہوری، پرامن اور شعوری بنیادوں پر ہے، اور اس کا مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ ہے۔ ترجمان لیگل اینڈ ایگزیکٹو کمیٹی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

*یہ شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں ہیں! انسپکٹر نوید چودھری اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کون؟*

*یہ شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں ہیں! انسپکٹر نوید چودھری اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کون؟* تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ (ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی) سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال گزشتہ شب راولاکوٹ کے قریب کھائی گلہ کے مقام پر پولیس آفیسران کی ایک گاڑی حادثے کا شکار ہوئی، جس میں پانچ افسران شہید ہو گئے۔ ان شہداء میں انسپکٹر نوید احمد چودھری کا نام خاص طور پر دل کو چیرتا ہے، جن کا تعلق تحصیل کھوئی رٹہ سے تھا۔ وہ حال ہی میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے۔ آج نہ صرف کھوئی رٹہ، بلکہ نکیال سمیت پورے خطے پر سوگ کی کیفیت طاری ہے۔وہ نکیال میں دیانت داری ، فرض شناسی کی مثال قائم کر چکے تھے ۔ قارئین کرام! یہ حادثہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے نظام پر ایک فردِ جرم ہے! یہ سڑکیں شاہراہیں نہیں، مقتل گاہیں بن چکی ہیں۔ یہ موڑ اندھے نہیں، یہ نظام اندھا ہے۔۔۔نہ سیفٹی وال، نہ شفاف شیشے، نہ حفاظتی اصول۔ ہر طرف موت کا کنواں ہے۔یہ "حادثے" نہیں، دراصل قتل ہیں اور ان کے قاتل موجودہ و سابقہ حکمران، محکمہ شاہرات، کرپٹ ٹھیکیدار اور بدعنوان سسٹم ہیں۔ انسپ...

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال سیز فائر لائن (Ceasefire Line) اور ایل او سی (Line of Control) محض دو اصطلاحات نہیں بلکہ جموں کشمیر کے مسئلے پر دو متضاد نظریات کی علامتیں ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق صرف لغوی یا عسکری نہیں بلکہ گہرا سیاسی، تاریخی اور نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔ سیز فائر لائن ۔۔۔۔ عوامی نمائندگی اور اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ مؤقف ہے۔ پہلے اس کو سیز فائر لائن ہی کہا جاتا تھا ۔ سیز فائر لائن وہ لکیر ہے جو 1949ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ، جموں کشمیر کے تنازعہ پر جنگ بندی کے بعد کھینچی گئی تھی ۔ یہ لکیر بین الاقوامی طور پر جموں کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ جموں کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے ۔ کو پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر اور ہندوستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کہا جاتا ہے ۔ دونوں مما...