نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چارٹر آف ڈیمانڈ ، نکیال بچاو، جنگلات بچاو، جنگلات آگ اور قبضہ مافیا سے بچاؤ ، انسانی زندگی کی قیمت پر جنگلات کی فروخت نامنظور ۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نکیال کے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور دور رس حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ آئندہ کی نسلوں کے لیے یہ قدرتی وسائل محفوظ رہیں۔

چارٹر آف ڈیمانڈ JKNAP/JKNSF نکیال کے جنگلات کی حفاظت کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز ۔"نکیال جنگلات بچاؤ ، نکیال بچاؤ شعوری بیداری و احتجاجی تحریک " زیر اہتمام:- جموں کشمیر نیپ/جموں کشمیر این ایس ایف (نکیال) ہم نکیال کے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ جنگلات کی تباہی، غیر قانونی کٹائی، اور آگ لگانے کی روک تھام کی جا سکے۔ یہ تحریک نہ صرف نکیال بلکہ پورے خطے کے قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ ہماری اس مہم کے مطالبات: 1. فوری جنگلات کی حفاظت کو ایمرجنسی لگا کر یقینی بنایا جائے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نکیال کے جنگلات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور آگ لگانے کی کارروائیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔فوری ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ نکیال کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے ۔ صاف شفاف جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو آگ سے جلنے والے جنگلات ، رقبہ جات، مجموعی نقصانات کا اور جنگلات پر تجاوزات ، مداخلت کا تخمینہ لگائے اور رپورٹ پیش کرے۔ بلخصوص محکمہ جنگلات کا ڈیمارکیشن / محکمہ مال اور ان پر مبنی جوڈیشل کمیشن پورے نکیال میں جنگلات کی حد بندی کراتے ہوئے جنگلات کے رقبہ کا تعیّن کرے، اور باڑ بندی کرے۔ جنگلات سے شہری آبادیوں کو کم از کم تین کلو میٹر دور آباد کیا جائے ۔ خاص کر ریاست اپنی زمہ داری پوری کرے ، عوام کو نکیال کے لوگوں کو سرکاری طور پر مفت رہائش دی جائے ، بڑھتی ہوئی آبادی ، جنگلات کے رقبہ کی تباہی کے پیش نظر فوری طور پر ٹاؤن پلاننگ کا نفاذ کیا جائے۔ غیر آباد ، بنجر علاقوں میں ہزاروں مکانات ماحول دوست ہوں وہ بنائے جائیں اور عوام کو ان میں یکساں مکانیت سے رہائش پذیر کیا جائے اور سب سہولیات وہاں ہی دی جائیں اور جنگل ے رقبہ جات کو ویران کرتے ہوئے پودہ جات لگائے جائیں ۔ اگر موجودہ صورتحال رہی تو آئندہ دس سالوں میں نکیال کے جنگلات رقبہ جات دیہات شہری طرز پر منتقل ہو جائیں گے جہاں شیعوں دیہاتوں جنگلات میں کوئی فرق تمیز باقی نہیں رہے گی۔ اب نکیال کا ایسا کوئی گاؤں نہیں جہاں کچی پکی درجنوں سڑکیں جنگلات کے رقبہ سے نہ جاتی ہوں۔ اس اقدام سے دھرتی کا سینہ چیڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ اس کا واحد حل ٹاؤن پلاننگ ہی ہے۔ 2. آگ لگانے والوں کے خلاف سخت سزا کا اعلان کیا جائے:- جنگلات میں آگ لگانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ایسے افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں۔اس کے لیے جنگلات ، پولیس، مقامی طور پر سخت تفتیش کی جائے ۔ مجموعی سزاؤں کا تعین کیا جائے ۔ جہاں سے آگ شروع ہوتی ہے ۔ وہاں کی تمام آبادی ، مسافروں ، گزر نے والوں کو شامل تفتیش کیا جائے ضرور اس سے اول مجرم پکڑا جائے گا ۔ جہاں بھی آگ لگتی ہے ۔ انتظامیہ محکمہ عوام اس کی باقاعدہ تاریخ ، وقت وائز رپورٹنگ کریں ۔درج کرائیں ۔ بصورت دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کرائیں ۔ ہمیں اب تک پوری تفصیلات دی جائے ۔ جو درخواست دیں وہ بھی محکمہ جنگلات فراہم کرے۔ 3. محکمہ جنگلات کی کارکردگی میں بہتری: محکمہ جنگلات کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے اور جنگلات میں آگ کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور تربیت فراہم کی جائے۔ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی تربیت اور استعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی ایمرجنسی میں مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ملازمین کو بھاری تنخواہیں دی جائیں ، تحفظ اختیار دیا جائے ۔ جدید آلات دئیے جائیں ۔ خاص کر جو بیلدار نگہبان عارضی ملازمین ہیں ان کو مستقل کیا جایے۔ ان کی آٹھ ماہ سے بند تنخواہیں فوری طور پر قانون کے مطابق دی جائیں ۔ ان کی تنخواہوں میں سے فرسٹ آفسیر اور ریجن آفسیر ڈی ایف او کٹوتی نہ کریں۔ محکمہ سے پوری رقبہ جنگلات کی تفصیلات ، تجاوزات کی رپورٹ مانگی جائے۔ مانیٹر کی جائے۔ ماہانہ کھلی کچہری اعلی حکام کی قیادت میں رکھی جائے ۔ 4. روایتی سیاسی مداخلت کی روک تھام کی جائے ۔ جنگلات پر قبضہ کرنے والی سیاسی جماعتوں اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال جنگلات کی تباہی کے لیے نہیں ہونے دیا جائے۔ جو روائیتی سیاسی جماعت ، حکمران طبقہ ، روائیتی سیاستدان جنگلات دشمنوں کی سپورٹ حمایت کرے اس کو بے نقاب کیا جائے اس کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی جائے ۔ اس کو روکا جائے۔ پوچھا جائے ۔ نکیال میں روائیتی سیاسی جماعتوں کی اصل سیاست جنگلات پر قبضہ کرانا اور فروخت کرنا اور ناجائز مکانات بنانا، درخت کٹوانا ہے۔ اس کے عوض روائیتی سیاسی جماعتیں ووٹ اور روپے عوام سے لیتی ہیں۔ ان روائیتی سیاسی جماعتوں نے لاکھوں کروڑوں اربوں کے صرف گھروں میں بیٹھ کر جنگلات فروخت کیے ہیں اور عوام کے وسائل کو لوٹ کر اپنے بینک بیلنس بنائے ہیں اور اب تعصب نفرت مفادات برادری قبیلہ پارٹی کے نام پر سیاست برائے کاروبار کر رہے ہیں ۔ اس مافیا کو بے نقاب کیا جائے ۔ ان کا سخت صاف شفاف احتساب کیا جائے ۔ 5. مقامی کمیٹیوں کا قیام جو روائیتی سیاسی جماعتوں سے پاک ہو عمل میں لایا جائے ۔ نکیال کے مقامی عوام اور کمیونٹی کو جنگلات کے تحفظ میں شامل کیا جائے۔ مقامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو جنگلات کی نگرانی اور تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ہر گاؤں میں رضاکارانہ طور پر کمیٹیاں بنائی جائیں جو قبضہ مافیا کی پہنچ سے دور ہوں ۔ دیانت دار ہوں۔ فرض شناس ہوں۔ ان کی باقاعدہ کمیٹی ہو۔ جو جوائنٹ ہو۔ انتظامیہ سہ ماہی اجلاس منعقد کرے۔ رپورٹ باقاعدہ جوائنٹ جاری کی جائے۔ 6. سول ججوں کے تحت جنگلات کی سماعت کا اختیار دیا جائے ۔ جنگلات کے مقدمات کے لیے سول ججوں کے دائرہ اختیار میں لایا جائے۔ فارسٹ مجسٹریٹ کی عدالت کو ختم کیا جائے تاکہ عوام کو ان مقدمات کے لیے مزید سہولت ملے۔محکمہ مال سے بھی قانونی سماعت کے اختیارات واپس لیے جائیں کیوں کہ یہ عدالتیں عوام کا اعتماد کھو کر کرپشن کا مرکز بن چکی ہیں۔ سول ججوں کی تعداد بڑھائی جائے اور جنگلات خالصہ کے مقدمات کی سماعت کا اختیار سول ججز کو دیا جائے۔ اور انصاف کے نظام کو بلکل مفت بنایا جائے ۔ ایسا نہ بنایا جایے کہ انصاف لینے والا ذلیل ہو۔ 7. آگاہی اور تعلیم کی مہم کو تیز و منظم کیا جائے ۔ جنگلات کے تحفظ کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے تعلیمی مہم چلائی جائے۔ اسکولوں، محافل اور عوامی اجتماعات میں جنگلات کی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے۔علماء ہر جمعہ میں دس منٹ خطاب کریں ۔ بچوں کی باقاعدہ تربیت کی جائے۔ جنگلات کو آگ لگانے والوں کی تصاویر اشتہارات شہریوں میں لگائے جائیں ۔ 8. قانونی تحفظ کا نفاذ کیا جائے ۔ نکیال کے جنگلات کو قانونی تحفظ دیا جائے اور ان کے تحفظ کے لیے خصوصی قوانین وضع کیے جائیں جو جنگلات کو غیر قانونی قبضوں اور تباہی سے بچا سکیں۔ 9. سیف زونز کی تشکیل یقینی بنایے جایے نکیال اور اس کے اردگرد کے علاقے میں سیف زونز بنائے جائیں جہاں جنگلات کو محفوظ رکھا جا سکے اور کسی بھی قسم کی مداخلت یا تباہی کا امکان نہ ہو۔ 10. دور رس اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نکیال کے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور دور رس حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ آئندہ کی نسلوں کے لیے یہ قدرتی وسائل محفوظ رہیں۔ ہم نکیال کے عوام، نوجوانوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، اور اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک میں ہمارا ساتھ دیں اور نکیال کے جنگلات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کی جانب قدم بڑھائیں۔ یہ تحریک صرف جنگلات کے تحفظ کے لیے نہیں، بلکہ ہمارے کلائمیٹ جسٹس/ماحولیاتی نظام اور قدرتی وسائل کی بقاء کے لیے ہے۔ اگر آپ مزکورہ بالا مطالبات ، خیالات سے اتفاق کرتے ہیں تو ہماری اس مہم کا باقاعدہ حصہ بنیں ۔ اس کی ممبر شپ اخیتار کریں۔ آپ کو واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا جایے گا ۔ جاری کردہ:- شعبہ نشر و اشاعت:- جموں کشمیر نیپ، جموں کشمیر این ایس ایف (نکیال)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نکیال تعلیمی مسائل پر عوامی تشویش ، تشویشناک ، نکیال کے بڑھتے ہوئے تعلیمی مسائل کو حل کیا جائے ۔ نکیال میں سرکاری ڈھانچہ تنزیلی کا شکار ہے ۔

نکیال: حکام تعلیمی مسائل اور ٹیچرز کے آن ڈیوٹی معاملات پر عوامی تشویش دور کریں شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال راہنما جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 03418848984 نکیال، کریلہ مجہان اور دھروتی موہڑہ میں ٹیچرز کے آن ڈیوٹی معاملات کے حوالے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو حکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی تکلیف اور بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ مڈل سکول کریلہ مجہان نکیال کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ گورنمنٹ بوائز مڈل سکول کریلہ مجہان کے تین ایلیمنٹری ٹیچرز کو ترکنڈی کھنڈہار اور کھنڈہار بالا میں آن ڈیوٹی بھیجا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے کے بچوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ یہ اس لیے اور بھی سنگین ہے کہ اس اسکول میں پہلے ہی چار ٹیچرز کی کمی ہے، اور اس فیصلے سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول دھروتی موہڑہ میں بھی تعلیمی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہاں 250 سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں، اور سالانہ امتحانات کے ق...

نکیال : شیعہ سنی فرقہ پرستی اور معصومیت پر ہونے والا حملہ، تشویشناک ؟؟

نکیال : شیعہ سنی فرقہ پرستی اور معصومیت پر ہونے والا حملہ، تشویشناک ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، نکیال کوٹلی،سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال نکیال میں گزشتہ روز پیش آنے والا دردناک حادثہ، جس میں ایک پورا خاندان حادثے کا شکار ہوا، دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ معصوم بچی کی موت، ماں کا کوما میں چلے جانا، اور باپ کا اپاہج ہو جانا— یہ سب مل کر انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ ابھی اس صدمے سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ سوشل میڈیا پر ایک شرمناک مہم سامنے آئی: "اس بچی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے کیونکہ وہ اہل تشیع ہے۔" یہ کیسا ظلم ہے؟ یہ کون سی انسانیت ہے؟ کیا ہم نے مذہب، مسلک اور فرقہ بندی کو انسانیت سے بھی مقدم کر دیا ہے؟ کیا معصومیت اب نظریات کی قربان گاہ پر چڑھائی جائے گی؟ ایک ننھی کلی جو کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی، اس کے جنازے کو بھی مسلک کی بنیاد پر متنازعہ بنایا جائے گا؟ یہی نکیال تھا جہاں رواداری، بھائی چارے، اور انسان دوستی کی مثالیں قائم کی جاتی تھیں۔ لیکن آج نکیال کے افق پر فرقہ واریت کے سیاہ بادل چھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ک...

> نکیال سیز فائر لائن سے نامعلوم لاش اور مردہ نظام۔۔ مردہ سماج ؟؟؟ نکیال میں تفتیش سوالیہ نشان ؟؟؟ یہ پولیس، یہ انتظامیہ ، یہ حکومتیں کس مرض کی دوا ہیں۔۔۔!!!

نکیال سیز فائر لائن سے نامعلوم لاش اور مردہ نظام۔۔ مردہ سماج ؟؟؟ نکیال میں تفتیش سوالیہ نشان ؟؟؟ یہ پولیس، یہ انتظامیہ ، یہ حکومتیں کس مرض کی دوا ہیں۔۔۔!!! تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال قارئین! صبح سویرے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی کہ سیز فائر لائن نکیال اولی کے زیرو پوائنٹ پر ایک لاش پڑی ہے۔ اطلاع ملی تو پولیس، انتظامیہ اور ادارے حرکت میں آئے۔ سوشل میڈیا پر شور مچ گیا پولیس پہنچنے والی ہے! ہم نے بھی سوچا کہ اب شناخت ہو جائے گی۔ مگر پولیس نے جا کر صرف یہ بتایا کہ نعش تقریباً 60۔65 سالہ شخص کی ہے، جیب سے کوئی شناختی کاغذ نہیں ملا۔ ۔۔۔۔۔۔ لاش کو ہسپتال لایا گیا۔ انتظار بڑھ گیا۔ پھر خبر ملی کہ شناخت نہیں ہو پا رہی، بس غسل دے دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر چہرے کی تصویر وائرل کی گئی کہ کیا کوئی اس کو پہچانتا ہے؟ گاؤں گاؤں خبر پھیل گئی۔ پہلے کہا گیا یہ سہسنہ کوٹلی کا کوئی ہے۔ پھر کہا گیا شناخت ہو گئی ہے۔ پھر کہا گیا نہیں، ابھی نامعلوم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آخرکار انتظا...