نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آزاد جموں و کشمیر ملازمین کی حمایت میں جموں کشمیر نیپ اور این ایس ایف کا احتجاجی موقف مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے

ملازمین کی حمایت میں جموں کشمیر نیپ اور این ایس ایف کا احتجاجی موقف مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے اصلاحات واپس لینے کی اپیل نکیال/کوٹلی (خصوصی رپورٹ) 20/02/2025 تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کی تنظیموں کے نمائندہ اتحاد "ایمپلائز فیڈریشن آزاد جموں و کشمیر" کے پلیٹ فارم سے احتجاجی ریلی اور پروگرام کے دوران اظہار یکجتی کرتے ہوئے جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے راہنما کامریڈ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، نکیال نے سرخ سلام پیش کیا اور اپنے خطاب میں حکومت وقت سے مجوزہ پنشن اصلاحات کا بل واپس لینے، ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے، اور ایکٹ 2016 و ایکٹ 2023 کی منسوخی کے مطالبات کی حمایت کی۔ کامریڈ شاہ نواز علی شیر نے کہا کہ مظاہرین پرامن ہیں اور ان کے مطالبات آئینی، قانونی اور جمہوری ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات تسلیم کرے اور ان کے حقوق کی فراہمی میں تاخیر نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محنت کشوں کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کامریڈ شاہ نواز علی شیر نے مظاہرین کی طرف سے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے اور دفاتر کی تالا بندی کا اعلان کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنے مطالبات کی منظوری تک اپنے احتجاج کو پرامن جمہوری طریقے سے جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور سامراجی ایجنڈے کو اپنے محنت کش ساتھیوں پر مسلط ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کامریڈ نے مزید کہا کہ "جوانی میں ملازمین سے طاقت سے کام لیا جائے اور بڑھاپے میں انہیں تنہا چھوڑا نہیں جا سکتا۔" انہوں نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اب بوسیدہ، ناکارہ اور فرسودہ ہو چکا ہے جو اپنی تخلیقی پیداوری، خوشحالی، مساوات، اور انصاف پر مبنی صلاحیتوں کو کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام آج عوام اور نوجوانوں سمیت اپنے بچوں کو خود نگل رہا ہے، اور یہ ریاست اب ریاست نہیں رہی بلکہ دہائیاں بن چکی ہے، جو ملازمین کا خون چوسنے پر تلی ہوئی ہے۔ کامریڈ شاہ نواز علی شیر نے حکومتی طبقے کی مراعات، تنخواہوں اور عیاشیوں کو فروغ دینے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ حکومتی اقدامات محنت کشوں کے چولہوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) ہمیشہ محنت کشوں کی ایکتا کا پرچار کرتے ہوئے استحصال سے پاک سماج کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ کامریڈ شاہ نواز علی شیر نے اختتام میں کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جموں کشمیر نیپ اور این ایس ایف ملازمین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہیں۔ یہ خیالات کا اظہار جموں کشمیر نیپ کے راہنما کامریڈ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ نے پارٹی ، طلبہ و عوامی وفود سے کیا ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال سیز فائر لائن (Ceasefire Line) اور ایل او سی (Line of Control) محض دو اصطلاحات نہیں بلکہ جموں کشمیر کے مسئلے پر دو متضاد نظریات کی علامتیں ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق صرف لغوی یا عسکری نہیں بلکہ گہرا سیاسی، تاریخی اور نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔ سیز فائر لائن ۔۔۔۔ عوامی نمائندگی اور اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ مؤقف ہے۔ پہلے اس کو سیز فائر لائن ہی کہا جاتا تھا ۔ سیز فائر لائن وہ لکیر ہے جو 1949ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ، جموں کشمیر کے تنازعہ پر جنگ بندی کے بعد کھینچی گئی تھی ۔ یہ لکیر بین الاقوامی طور پر جموں کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ جموں کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے ۔ کو پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر اور ہندوستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کہا جاتا ہے ۔ دونوں مما...

نکیال/ کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔

نکیال کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ (ممبر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی) سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KS Relief) کی جانب سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے لیے 14.2 ملین ڈالر کا تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ یہ خیرسگالی پر مبنی فوڈ سیکیورٹی پیکج سینکڑوں سیز فائر لائن کے خاندانوں تک پہنچنا تھا۔ لیکن افسوس، تحصیل نکیال میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی — بندربانٹ، اقربا پروری، اور محرومی! تقریبا سرکاری ملازمین نے ہاتھ صاف کر دیا۔ نکیال، جو کہ سیز فائر لائن سے براہِ راست متاثرہ علاقہ ہے، برسوں سے ریلیف، باڈر پیکج، اور خیراتی امداد کا مرکز رہا ہے۔ مگر ان تمام امدادی مراحل میں اکثریت کو محرومی، تذلیل اور نابرابری ہی ملی۔ سعودی امداد ہو یا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا راشن ۔۔۔ نکیال کی عوام کے لیے یہ صرف فوٹو سیشن اور سیاسی نمائش کا ایک اور موقع بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ام...