نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

برائے 23 مارچ 2025 - سیز فائر لائن نکیال موہڑہ دھروتی عوامی لانگ مارچ* مورخہ: 8 مارچ 2025 – بمقام نکیال موہڑہ دھروتی سیز فائر لائن سیکٹر " *الرٹ* "

*رپورٹ برائے 23 مارچ 2025 - سیز فائر لائن نکیال موہڑہ دھروتی عوامی لانگ مارچ* مورخہ: 8 مارچ 2025 – بمقام نکیال موہڑہ دھروتی سیز فائر لائن سیکٹر " *الرٹ* " *23 مارچ سیز فائر لائن نکیال موہڑہ دھروتی عوامی لانگ مارچ کے حوالے سے اہم نمائندہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔* تفصیلات کے مطابق:- *جموں کشمیر نیپ، جموں کشمیر این ایس ایف نکیال یونین کونسل موہڑہ دھروتی سیز فائر لائن سیکٹر کا اجلاس مجںتی بانڈے کی رہائی، سیز فائر لائن موہڑہ دھروتی و نکیال کے جملہ مسائل اور سیز فائر لائن موہڑہ دھروتی سے انٹری پوائنٹ اوپن کرنے کے لیے منعقد ہوا۔ اجلاس میں مقامی یونٹ کی جانب سے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں درجنوں ممبران سی سی موہڑہ دھروتی نے شرکت کی۔* یہ کہ اہم فیصلے بزیل ہیں:- 23 مارچ کے سیز فائر لائن موہڑہ دھروتی لانگ مارچ کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ 15 مارچ بروز ہفتہ نکیال شہر میں اہم جوائنٹ اجلاس ہوگا اور پریس کانفرنس کر کے 23 مارچ کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس کی میزبانی جموں کشمیر این ایس ایف اور جموں کشمیر نیپ نکیال کرے گی۔ یہ کہ لانگ مارچ روٹ اور کمیٹیاں بارے بزیل ہے:- 15 مارچ کے بعد 23 مارچ کے لانگ مارچ کے لیے سیز فائر لائن کے روٹ کا تعین کرنے کے لیے نمائندہ کمیٹی نکیال سے موہڑہ دھروتی سیز فائر لائن کا وزٹ کرے گی اور روٹ شیڈول کا اعلان کرے گی۔ اس کے علاوہ لانگ مارچ کے لیے آرگنائزنگ، استقبالیہ، پبلسٹی، کورنگ، ریسکیو، میڈیا، اور سفارتی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں جن کی ڈیوٹیاں بھی لگا دی گئی ہیں۔ یہ کہ بین الاقوامی اداروں اور حکام سے رابطہ بارے بذیل ہے:- 15 مارچ تک اقوام متحدہ، ہندوستان و پاکستان کے حکام، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، ریسکیو ایمبولینس اور انتظامیہ کو عوامی لانگ مارچ کے حوالے سے کوریج، ریسکیو اور مانیٹرنگ کے لیے لیٹر اور اوپن لیٹر بھجوائے جائیں گے۔ یہ کہ سیز فائر لائن پر مطالبات بذیل ہیں:- اجلاس میں ہندوستان و پاکستان کی ریاستی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سیز فائر لائن کو فوری طور پر ختم کریں اور اس پر موجودہ گولہ بارود، مائن، بارودی سرنگیں وغیرہ ہٹائیں تاکہ عوام کو سیز فائر لائن کراس کرنے میں کسی قسم کی مشکلات نہ آئیں اور انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہے جس میں عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ یہ کہ آزادانہ رسائی اور اقوام متحدہ کے پاسپورٹ کا مطالبہ بذیل ہے:- اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ سیز فائر لائن کی جانب ہمارا مارچ پرامن ہے اور عوامی سطح پر حقوق کے مطابق ہے۔ اس پر پاکستان اور ہندوستان کی فورسز، انتظامیہ اور ریاستی مشینری سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد، گھیراؤ، جلاؤ اور انتشار سے گریز کریں۔ علاوہ ازیں، اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ جموں کشمیر کے باشندوں کو یو این او پاسپورٹ جاری کیا جائے اور نکیال سیز فائر لائن موہڑہ دھروتی سے اقوام متحدہ کی مدعیت میں آزادانہ انٹری پوائنٹ اوپن کیا جائے۔ یہ کہ سوشیل میڈیا اور عوامی جڑت بارے بذیل ہیں:- 15 مارچ کے بعد سوشل میڈیا، وڈیو، آڈیو اور سفارتی میڈیم سے سیز فائر لائن کے اس پار جموں کشمیر کی موجود کمیونٹی کو مارچ اور استقبال کے لیے دعوت دی جائے گی اور ایک جڑت پیدا کی جائے گی۔ ساتھ ہی نکیال سیز فائر لائن پر 23 مارچ کے عوامی لانگ مارچ کے لیے کھوئی رٹہ، متھرانی، ڈبسی تتہ پانی گوئی اور دیگر مقامات پر فلیگ مارچ اور عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ یہ کہ کمیٹیوں کی تشکیل اور مطالبات بذیل ہیں:- پندرہ سال سے قائم کی گئی نکیال سیز فائر لائن کمیٹی کو دوبارہ فعال و متحرک کیا جائے گا تاکہ سیز فائر لائن کے مسائل اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ کہ پاکستانی زیر انتظام حکومت کو ڈیڈ لائن دی جاتی ہے :- اجلاس میں پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر حکومت کو 19 مارچ رات 12 بجے تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے کہ وہ مجںتی بانڈے کو غیر مشروط رہا کرے اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل کرے۔ بصورت دیگر، 23 مارچ کو سیز فائر لائن نکیال موہڑہ دھروتی لانگ مارچ ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری حکام پر عائد ہو گی۔ جاری کردہ: شعبہ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) نکیال جموں کشمیر این ایس ایف نکیال زیر اہتمام: پبلسٹی بورڈ برائے 23 مارچ سیز فائر لائن موہڑہ دھروتی نکیال عوامی لانگ مارچ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال سیز فائر لائن (Ceasefire Line) اور ایل او سی (Line of Control) محض دو اصطلاحات نہیں بلکہ جموں کشمیر کے مسئلے پر دو متضاد نظریات کی علامتیں ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق صرف لغوی یا عسکری نہیں بلکہ گہرا سیاسی، تاریخی اور نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔ سیز فائر لائن ۔۔۔۔ عوامی نمائندگی اور اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ مؤقف ہے۔ پہلے اس کو سیز فائر لائن ہی کہا جاتا تھا ۔ سیز فائر لائن وہ لکیر ہے جو 1949ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ، جموں کشمیر کے تنازعہ پر جنگ بندی کے بعد کھینچی گئی تھی ۔ یہ لکیر بین الاقوامی طور پر جموں کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ جموں کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے ۔ کو پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر اور ہندوستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کہا جاتا ہے ۔ دونوں مما...

نکیال/ کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔

نکیال کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ (ممبر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی) سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KS Relief) کی جانب سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے لیے 14.2 ملین ڈالر کا تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ یہ خیرسگالی پر مبنی فوڈ سیکیورٹی پیکج سینکڑوں سیز فائر لائن کے خاندانوں تک پہنچنا تھا۔ لیکن افسوس، تحصیل نکیال میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی — بندربانٹ، اقربا پروری، اور محرومی! تقریبا سرکاری ملازمین نے ہاتھ صاف کر دیا۔ نکیال، جو کہ سیز فائر لائن سے براہِ راست متاثرہ علاقہ ہے، برسوں سے ریلیف، باڈر پیکج، اور خیراتی امداد کا مرکز رہا ہے۔ مگر ان تمام امدادی مراحل میں اکثریت کو محرومی، تذلیل اور نابرابری ہی ملی۔ سعودی امداد ہو یا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا راشن ۔۔۔ نکیال کی عوام کے لیے یہ صرف فوٹو سیشن اور سیاسی نمائش کا ایک اور موقع بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ام...