نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

موہڑہ ہیلتھ سنٹر پر قبضہ اور اس کی حالت زار پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔ عوامی علاقائی مسائل پر نہ مصلحت پسندی کا شکار ہو سکتے ہیں اور نہ ہی خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے ۔ اپنے حقوق آنے والی نسلوں کے مستقبل پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی

موہڑہ ہیلتھ سنٹر پر قبضہ اور اس کی حالت زار پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔ عوامی علاقائی مسائل پر نہ مصلحت پسندی کا شکار ہو سکتے ہیں اور نہ ہی خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے ۔ اپنے حقوق آنے والی نسلوں کے مستقبل پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں جی جائے گی۔ جموں کشمیر نیپ ، جموں کشمیر این ایس ایف موہڑہ دھروتی کا اجلاس کے بعد مشترکہ فیصلہ تفصیلات کے مطابق:- 8 مارچ 2025 کو موہڑہ دھروتی یونین کونسل سیز فائر لائن میں جموں کشمیر نیپ اور جموں کشمیر این ایس ایف کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں موہڑہ ہیلتھ سنٹر پر سرکاری اراضی پر قبضہ اور اس کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں موہڑہ ہیلتھ سنٹر پر قبضہ کی سخت مزمت کی گی اور اب تک موہڑہ بازار کی لنک سڑک اور کراس چوک کی حالت زار پر خاموشی کی شدید الفاظ میں مزمت کی گی ۔ موہڑہ کے بازار میں واقع بنیادی ہیلتھ یونٹ، جو ہزاروں افراد کے لیے صحت کی سہولت فراہم کرتا ہے، حالیہ دنوں میں غیر قانونی قبضہ کا شکار ہو چکا ہے۔جو کہ ایک افسوس ناک اقدام ہے ۔ مین سڑک بازار سے نیچے ہیلتھ سنٹر کی جانب جانے والا راستا بشکل سڑک جو پختہ ہونا باقی ہے جو آٹھ فٹ تھی اب آٹھ فٹ کے بجائے صرف تین فٹ کی سیڑھیاں رکھی گی ہیں جو انتہائی کم خطرناک ہیں اور ناقابل رفتار ہیں۔ ایمرجنسی مریضوں ، ہارٹ فالج کے مریض اور موٹاپے سمیت خواتین بزرگوں کے لیے اس سے اترنا چڑھنا انتہائی مشکل اور جان لیوا ہے۔ فوری طور پر پورے راستے کو آٹھ فٹ جتنا بھی ہے اتنا کشادہ کیا جایے۔ اپ ریز کیا جایے ۔ اور تین فٹ کی سیڑھی کو مسمار کیا جائے ۔ علاؤہ ازیں اس کے ارد گرد موجود سرکاری اراضی پر بیوپاریوں نے گوبر اور غلاظت پھینک کر اسے گندا کر دیا ہے، جس سے نہ صرف صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، بلکہ عوام کی صحت کے لیے بھی یہ ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ طبی سنٹر موہڑہ گوبر پیشاب کا مرکز بنا ہوا ہے جو خود محکمہ کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے ۔ حکام کی نااہلی نالائقی ناتجربہ کاری کا ثبوت ہے ۔ عوام نے اس قبضہ گیری کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ فوری طور پر اس قبضہ کو ختم کیا جائے گا۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے کی صفائی اور تعمیرات پر توجہ دے تاکہ صحت کی سہولتیں بہتر ہو سکیں اور عوام کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ موہڑہ ہیلتھ سنٹر کی حالت انتہائی بدتر ہو چکی ہے۔ اس سنٹر میں نہ تو مناسب ڈاکٹروں کی تعداد ہے، نہ ہی ادویات کی فراہمی ہے، اور نہ ہی ایمبولنس کی سہولت موجود ہے۔ مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے لیے نہ تو ویل چیئر کی سہولت ہے اور نہ ہی کسی ایمرجنسی صورت حال میں رسائی حاصل کرنے کا کوئی مؤثر نظام ہے ۔ اس صورتحال کی وجہ سے مقامی افراد کو علاج کے لیے نکیال بازار یا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نکیال بازار کی طرف آنے والی مرکزی سڑک انتہائی بوسیدہ خستہ حال ہے ۔ حاملہ خواتین ، ہارٹ فالج کے مریض سخت مسائل سے دوچار ہیں ۔ فوری طور پر سڑک حسب وعدہ بنائی جائے۔ جموں کشمیر نیپ اور جموں کشمیر این ایس ایف نے اس قبضہ گیری کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس سرکاری اراضی پر قبضہ کرنا اور عوامی صحت کے مرکز کی صفائی کو نظرانداز کرنا نہایت شرمناک ہے۔ اس قبضے کے خاتمے کے لیے سخت قانونی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ ہیلتھ سنٹر کو عوام کی ضروریات کے مطابق بحال کیا جا سکے۔ موہڑہ دھروتی کی یونین کونسل ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے اور اس علاقے کا ہیلتھ سنٹر یہاں کے عوام کے لیے ایک اہم سہولت ہے ۔ اگر یہ ہیلتھ سنٹر مناسب طریقے سے کام کرے تو علاقے کے عوام کو صحت کے مسائل میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس وقت ہیلتھ سنٹر کی موجودہ حالت اور اس پر ہونے والی قبضہ گیری کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جموں کشمیر نیپ اور جموں کشمیر این ایس ایف نے اعلان کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس قبضہ گیری اور ہیلتھ سنٹر کی حالت زار کو درست نہیں کیا جاتا تو قانونی چارہ جوئی اور احتجاج کیا جائے گا ۔ رہنماؤں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور جلد ہی حکام کو درخواست دیں گے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار کامریڈ عاصم خان،سردار ادریس خان،خان شمریز ،سردار فہیم یونس،حاجی تبسم خان،سردار ہارون شمسی،سجاد احمد خان نیازی،عثمان گجر ،مہران چودھری، عنایت علی ،شاہ کامریڈ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ،سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ و دیگر نے کیا اور موقع ملاحظہ بھی کیا گیا ۔ جموں کشمیر نیپ کے مرکزی صدر سردار نیاز خان نے ٹیلیفون کے ذریعے مقامی مسائل اور طبقاتی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور رہنماؤں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ منجانب: شعبہ نشر و اشاعت، جموں کشمیر نیپ، جموں کشمیر این ایس ایف (نکیال)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

نکیال/ کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔

نکیال کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ (ممبر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی) سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KS Relief) کی جانب سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے لیے 14.2 ملین ڈالر کا تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ یہ خیرسگالی پر مبنی فوڈ سیکیورٹی پیکج سینکڑوں سیز فائر لائن کے خاندانوں تک پہنچنا تھا۔ لیکن افسوس، تحصیل نکیال میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی — بندربانٹ، اقربا پروری، اور محرومی! تقریبا سرکاری ملازمین نے ہاتھ صاف کر دیا۔ نکیال، جو کہ سیز فائر لائن سے براہِ راست متاثرہ علاقہ ہے، برسوں سے ریلیف، باڈر پیکج، اور خیراتی امداد کا مرکز رہا ہے۔ مگر ان تمام امدادی مراحل میں اکثریت کو محرومی، تذلیل اور نابرابری ہی ملی۔ سعودی امداد ہو یا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا راشن ۔۔۔ نکیال کی عوام کے لیے یہ صرف فوٹو سیشن اور سیاسی نمائش کا ایک اور موقع بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ام...

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب* !" تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ ۔ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی کبھی کبھی ایک جملہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر راجہ فاروق حیدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ *> "عام آدمی کون ہوتا ہے؟ عام آدمی کو کون پوچھتا ہے؟ وہ صبح کام پر جاتا ہے، شام کو منہ لٹکا کے آ جاتا ہے!* " یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ اُس سوچ کی عکاسی ہے جو خود کو "خاص" سمجھ کر عوام کو محض غلام، نوکر یا تماشائی تصور کرتی ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا یہ تکبر صرف ان کی ذاتی سوچ نہیں، یہ اُس نظامِ سیاست کا گھمنڈ ہے جو استحصالی، مفاد پرست، اور عوام دشمن رویوں سے جنم لیتا ہے۔ جو اشرافیہ/ حکمران طبقات کی سوچ کا مظہر ہے کہ وہ عوام کے بارے حقیقی معنوں میں کیا سوچ رکھتے ہیں ۔ راجہ فاروق حیدر وہ چہرہ ہے جس نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے تلوے چاٹے، جنرل باجوہ کی جھولی میں جا بیٹھے ، مفاد پ...