نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

صحت کا مطالبہ بھیک نہیں بطور حق کیا جائے

*نکیال کے موجودہ وزیر حکومت جاوید بڈھانوی صاحب اور سابقہ وزیر حکومت سردار فاروق سکندر صاحب سے نکیال کے مریض کے لیے علاج کے لیے کل صبح نو بجے تک اپنی تنخواہوں پنشن سے امداد دینے کا ایکشن کمیٹی کا مطالبہ* ۔ تفصیلات کے مطابق *نکیال کے کچھ رپورٹر، سوشل میڈیا صارفین ایک نوجوان مریض کہ اندرلہ ناڑ کا رہائشی ہے ۔اس کی اپیل کی پوسٹ وائرل کر رہے ہیں۔ جو اس وقت راولپنڈی، پاکستان میں تشویشناک حالت میں زیر علاج ہے۔* *لیکن سوال یہ ہے کہ نکیال کے موجودہ تین وزارتوں کے مالک بڈھانوی صاحب اور سابقہ وزراء صاحبان سے کوئی یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ آپ اس کا علاج کیوں نہیں کراتے؟ * نکیال میں جدید ہسپتال کیوں نہیں دیا گیا؟ آپ لوگ، مثلاً وزیر صاحب اور سابقہ وزراء، اپنی پنشنوں اور تنخواہوں سے اس مریض کا علاج کیوں نہیں کراتے؟ خود تو یہ حکمران بیرونِ ملک اور انتہائی مہنگے ہسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، مگر عوام ۔۔۔۔خاص طور پر غریب مزدور ۔۔۔۔کے لیے یہاں نکیال میں بنیادی صحت کی سہولت تک موجود نہیں۔ نہ ڈاکٹر، نہ اسٹاف، نہ دوا۔ بس ایک ہی نسخہ۔۔۔راولپنڈی ریفر کریں! اور پھر وہی پرانی کہانی ۔۔۔۔۔ ۔۔ س...

جواب الجواب ۔ سردار فاروق سکندر صاحب

جواب لاجواب :- جناب فاروق سکندر صاحب آپ نے ہمارے مطالبہ پر اپنی سابقہ بحثیت ایم ایل اے/ وزیر ، ملنے والی پنشن سے مریض کو علاج معالجے کے لیے روپے نہیں دئیے ہیں ۔ لیکن کم از کم جواب تو دیا ہے، آپ نے عوامی جزبات قدر کا احساس کرتے ہوئے جواب دیا اس پر بہت خوشی ہوئی کہ جناب نے وضاحت دی، موجودہ وزیر حکومت تین وزراتوں والوں نے نہ مریض کو امداد دی نہ جواب دیا ۔۔ معلوم نہیں کس چیز کا گھمنڈ ہے۔ ۔ آپ کی چند باتوں سے مکمل اتفاق ہے جو ہمارے لیے ، عوام کے لیے دعوت فکر ہے ۔ ہمیں عوام کو سوچنا ہو گا ۔ لیکن چند باتوں سے سخت اختلاف ہے اور باقی پرسنل الزام کردہ باتوں سے انکاری ہے جو کہ حقائق کے برعکس ہیں۔ جناب والا! آپ نکیال سے الیکشن لڑے ، وزیر بنے، ممبر کشمیر کونسل رہے ، آپ کو عوام نے دو بار موقع دیا تھا عوام کے مسائل حل کرنے کا یا سردار سکندر حیات خان صاحب کی لیسگیسی کو آگے بڑھانے کا ، لیکن اس میں آپ ناکام ہوئے اور آپ نے حلقہ سے سیاست کنارہ کشی اختیار کر لی ، حالانکہ عوام سے منتخب ہونے والے کبھی حلقہ نہیں چھوڑتے ہیں ، میدان میں رہتے ہیں۔ لڑتے ہیں جیتے ہیں یا ہارتے ہیں، کم از کم میدان کے...

نکیال زمین سرمایہ کاری کا زہر۔ دو بھائی

*نکیال، زمین اور سرمایہ داری کا زہر ۔۔۔ دو حقیقی بھائیوں کا تنازعہ ۔۔۔ سماج کا آئینہ* ۔۔۔ *نکیال کے حکمران طبقات ، ہمارا آپ کا دخل، حقائق کیا ہیں۔ ایک سماجی تجزیہ* ۔ نوٹ:- ( *ہر بھائی ، بہن ، بیٹا، والد، خاندان ، رشتہ دار ، اہل نکیال لازمی یہ تحریر پڑھیں اور اس پر بحث مباحثہ* مکالمہ کریں) تحریر: *شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ* ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی *گزشتہ دنوں سے نکیال میں دو سگے بھائیوں کے درمیان تنازعہ اراضی پر سوشل میڈیا پر جنگ جاری* ہے۔ *جس میں کنیڈین قومیت کے بھائی نے مقامی بھائی کی قائم کردہ چار دیواری کو بذریعہ تحصیل اسسٹنٹ کلکٹر مسمار کرای* ا ہے۔ *سوشل میڈیا پر متاثرہ بھائی نے موقف دیا ہے کہ وہ غریب ہے، اور اس کا بھائی کینیڈا میں ہوتا ہے بااثر، طاقتور اور اہلِ ثروت* ہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ سے ساز باز کر کے مسمار کیا گیا ہے۔ *اگرچہ یہ معاملہ دو سگے بھائیوں کا زمینی تنازعہ کی نوعیت کا ہے اور نجی ہے لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر یہ اب ایک سماجی ایشو بھی بن چکا* ہے۔ *یہ تحریر ان فریقین میں سے کسی حمایت یا مخالفت سے بالاتر ہو کر مر...

سہولت کار وزیر عوامی نہیں ہوتے ہیں

*تین وزراتوں کے وزیر ، جناب جاوید بڈھانوی کیا عوامی وزیر ہیں؟ نکیال کا موجودہ سابقہ حکمران طبقات کو ماسوائے سہولت کاری کوئی اور ٹائٹل سجتا ہی نہیں* ہے ۔ تحریر:- *شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ* ، ہائی کورٹ ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی قارئین کرام! گزشتہ روز سے نکیال کے خبر نگار صحافیوں اور روائیتی جیالوں نے موجودہ تین وزراتوں کے وزیر جاوید بڈھانوی صاحب کی انتخابی مہم ، پولنگ اسٹیشنز و حلقہ کے لیے بلائی گی میٹنگ میں جیالوں سے ملاقات ، گپ شپ کے فوٹو لگا کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ موصوف عوامی وزیر ہیں ۔ کئی گھنٹے عوام کو سنتے رہے ہیں ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال اس رجحان پر اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔ بنیادی طور پر جاوید بڈھانوی عوامی وزیر نہیں ہیں وہ عوامی کہلانے کا ٹائٹل اب کھو چکے ہیں۔ انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جو عوام کی حقیقی نمائندہ ہے اور اب جس کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے ۔ اور جس سے براہ راست پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کو کنٹرول کرنی والی مین اسٹریم پاکستانی روائیتی قیادت ہے وہ مزاکرات کر رہی ہے ۔ جبکہ ان وزیروں کو تو متعدد ...

ٹریفک مسائل ۔ ایک نکیال دو قانون نامنظور

*نکیال ، انتظامیہ ، ٹریفک پولیس ، حکام اپنا رویہ بدلیں ۔ قانون کو سب کے لیے برابر کریں ۔ انتقامی کارروائیوں سے باز رہیں۔ نکیال میں اس وقت جو کچھ ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کے نام پر ہو رہا ہے، وہ قانون کی عملداری کم اور طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال زیادہ ہے* ۔ *عوام، خاص طور پر نوجوانوں اور محنت کش ٹرانسپورٹرز کو جان بوجھ کر تنگ کرنا، جبکہ اصل بااثر طبقات اور ان کے منظورِ نظر افراد کو کھلی چھوٹ دینا، اسی دوہرے معیار کی نشاندہی کرتا ہے جس نے نکیال کو ایک اندھیر نگری بنا دیا ہے* ۔ *شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ہائی ، ممبر* جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی آج نکیال انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے محمد راشد نامی ایک نوجوان کیری ڈبہ ڈرائیور کی نمبر پلیٹ توڑ دی۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ اسے نہ تو پہلے آگاہ کیا گیا، نہ نوٹس دیا گیا، نہ کوئی قانونی طریقہ کار اپنایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنا ہے تو کیا طریقہ یہی ہے کہ سیدھا توڑ پھوڑ کر دی جائے؟ یا قانون کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اطلاع دی جائے، مہلت دی جائے، اور سب کے لیے ایک ہی پیمانہ رکھا جائے؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہی نوجوان...

نکیال عورتوں کے بالوں کی فروخت

*نکیال میں قانون نہیں، طاقتوروں کی مرضی چل رہی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ پھیری والوں کو اس لیے جانتی ہے کہ وہ ان سے ہفتہ وار اور ماہانہ بھتہ وصول کرتی ہے۔ دفعہ 144 ضابطہ فوجداری صرف کاغذوں کی حد تک زندہ ہے، عملی طور پر نکیال میں اس کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اگر ریاست واقعی ریاست ہے تو ڈپٹی کمشنر کوٹلی فوراً نکیال میں بالوں کی خرید و فروخت پر دفعہ 144 نافذ کرے، بصورت دیگر یہ مان لیا جائے* کہ *انتظامیہ اس گھناؤنے دھندے کی سرپرست ہے۔* *شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ* ۔ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی نکیال میں خواتین کے بالوں کی خرید و فروخت صرف ایک غیر اخلاقی کاروبار نہیں، یہ خواتین کی عزت، گھریلو حرمت اور سماجی تحفظ پر براہِ راست حملہ ہے ۔ ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ نکیال میں یہ دھندہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر آج کے بعد ایک بھی کیس سامنے آیا تو اسسٹنٹ کمشنر آفس اور تحصیلدار آفس کے باہر ایسا عوامی احتجاج ہوگا کہ دفاتر کی دیواریں بھی گواہی دیں گی۔ نکیال کا کچرا اٹھا کر ان دفاتر کے سامنے پھینکا جائے گا، تاکہ حکمرانوں کو آئینہ دکھایا جا سکے کہ انہوں نے اس شہر ک...

نکیال کریلہ مجہان انٹر کالج اور حکمران طبقات ۔

نکیال کریکہ مجہان کالج اار حکمران طبقات کریلہ مجہان سرکاری انٹر کالج میں کمپیوٹر مضمون کا پروفیسر نہیں ، پرائیویٹ بندہ تنخواہ پر پڑھاتا ہے ۔ بچے ماہانہ چندہ دیتے ہیں ۔ کالج میں پرنسپل کی پوسٹ خالی ہے۔ انچارج پر کام چل رہا ہے ۔ نکیال اس وقت چندہ اور انچارج پر چل رہا ہے ۔ کمپیوٹر کے 11 طلبہ میں سے 10 فیل ہو گے ہیں ۔ گزشتہ روز ان کا کمپیوٹر کا پیپر تھا ۔ ملاقات کی پوچھا پیپر کیسا ہوا تو کہنے لگے جیسے پہلے ہوا تھا ۔ کیسا ہو گا پروفیسر ہی نہیں ہے ۔ کوئی پڑھانے والا نہیں تو پاس کیسے ہو گا ۔ خون کے آنسوں نکلنا شروع ہو گے۔ پاؤں سے زمین نکلنا شروع ہو گی۔ طلبہ کے وہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ۔۔ سر پھٹ رہا ہے ۔۔ اتنا ظلم ۔۔۔ ان طالبہ کے مستقبل کا زمہ دار کون ہے ۔۔ ؟؟؟ اس کا زمہ دار کون ہے ۔ نکیال کے نالائق حکمران طبقات ہیں ۔ چاہیے وہ موجودہ ہویا سابقہ ہو۔ نہیں غریبوں کے بچوں کا کوئی احساس ہی نہیں ہے ۔ سردار سکندر حیات خان صاحب کے بعد واقعی نکیال لاوارث اور یتیم ہو گیا ہے ۔ سردار سکندر حیات خان صاحب نے اپنے بچوں کو سرکاری کالج میں پڑھایا تھا۔ لیکن اب موجودہ سابقہ حکمرا...

جواب شکوہ ۔۔ سابق وزیر حکومت سردار فاروق سکندر صاحب

سردار فاروق سکندر صاحب آپ کچھ پہلوؤں سے الگ ہیں یعنی منفرد ۔۔ان میں سے واحد یہ ہے کہ آپ لحاظ ، مروت ، لگی لپٹی کے بغیر حاضر ، غیر حاضر ،یا محفل میں جو ہو وہ کہہ دیتے ہیں ۔۔۔ ۔ اندر نہیں رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ پھر اتنا زیادہ ضد، انا، ہے دھرمی پر بھی نہیں جاتے ہیں ۔۔۔۔ ۔ نہ ہی اتنا زیادہ سنجیدہ کہ سمجھنے لگیں کہ آپ ناگریز ہیں ۔۔۔یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے قائم دائم ہے ۔۔ کہ پوری دنیا نکیال کا کنبہ برادری کا ٹھیکہ سر پر لیں۔۔ لائف کو بھرپور انجوئے کرتے ہیں ۔۔ ۔ اس وجہ سے یہ آپ کی ادائیں قاتل ہیں۔۔ حسینہ ہیں ۔۔۔ راقم الحروف آپ کے یا موجودہ بڈھانوی صاحب کا کوئی ذاتی جانی یا ازلی مخالف یا متعصب نہیں ہے ۔۔۔ ۔ بس آپ نظام کا حصہ ہیں رہ چکے ہیں ۔ ۔۔۔ اس وجہ سے پوچھنا حق بنتا ہے ۔ ۔۔ نظریاتی اختلاف حق ہے ۔۔ دوسرا جناب والا ۔۔ آپ جواب تو دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔جیسا کیسا ہو ۔۔ یہ خوشی ہوتی ہے کہ نکیال کے حکمران طبقات میں سے کوئی تو ہے جو سن ، پڑھ رہا ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔ جواب دے رہا ہے ۔۔۔۔ بحث مباحثہ مکالمہ کر رہا ہے ۔۔۔ ہمارے نزدیک یہ بھی ایک بڑا پہلو ہے۔۔۔ ورنہ نکیال میں ایسے حکمران بھی ہیں جنہیں پرا...

سیز فائر لائن سے ایک لرزہ خیز تعلیمی المیہ

*نکیال سیز فائر لائن سے ایک لرزہ خیز تعلیمی المیہ* ناظرین و سامعین، قارئینِ کرام! *یہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی روائیتی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ نکیال سیز فائر لائن سیکٹر سے تعلق رکھنے والے دو نابالغ بچوں کی وہ سچی اور تشویشناک کہانی ہے جو ہمارے سرکاری نظامِ تعلیم کے منہ پر طمانچہ ہے، اور جس نے ریاستی دعوؤں، گڈ گورننس کے نعروں اور تعلیمی اصلاحات کے تمام خوشنما غبارے پھاڑ کر رکھ دیے* ہیں۔ کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ہائر سیکنڈری اسکول ہٹلی، نکیال کے ذمہ داران نے ان بچوں کے والد کو یہ کہہ کر مسجد بھیجنے سے روک لیا کہ بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، کیونکہ اسکول کو بچوں کی تعداد پوری کرنی تھی۔ ایک محنت کش باپ، جس کی شریکِ حیات وفات پا چکی ہے، جس کا واحد سہارا مزدوری ہے، اس نے ریاستی نظام پر بھروسہ کیا اور بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کر دیا۔ آٹھ سال تک یہ دونوں بہن بھائی اسکول جاتے رہے۔ والد پوچھتا رہا۔۔۔ بچے کیسے پڑھ رہے ہیں؟ اور جواب ملتا رہا۔۔۔۔ زبردست، ڈنڈا سروس ہے۔۔۔ ۔۔۔ یوں کرتے کرتے آٹھ برس گزر گئے۔ آٹھ برس بعد بچے پانچویں جماعت تک پہنچ گئے۔ لیکن پھر اچانک چند ماہ قبل...

> نکیال سیز فائر لائن سے نامعلوم لاش اور مردہ نظام۔۔ مردہ سماج ؟؟؟ نکیال میں تفتیش سوالیہ نشان ؟؟؟ یہ پولیس، یہ انتظامیہ ، یہ حکومتیں کس مرض کی دوا ہیں۔۔۔!!!

نکیال سیز فائر لائن سے نامعلوم لاش اور مردہ نظام۔۔ مردہ سماج ؟؟؟ نکیال میں تفتیش سوالیہ نشان ؟؟؟ یہ پولیس، یہ انتظامیہ ، یہ حکومتیں کس مرض کی دوا ہیں۔۔۔!!! تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال قارئین! صبح سویرے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی کہ سیز فائر لائن نکیال اولی کے زیرو پوائنٹ پر ایک لاش پڑی ہے۔ اطلاع ملی تو پولیس، انتظامیہ اور ادارے حرکت میں آئے۔ سوشل میڈیا پر شور مچ گیا پولیس پہنچنے والی ہے! ہم نے بھی سوچا کہ اب شناخت ہو جائے گی۔ مگر پولیس نے جا کر صرف یہ بتایا کہ نعش تقریباً 60۔65 سالہ شخص کی ہے، جیب سے کوئی شناختی کاغذ نہیں ملا۔ ۔۔۔۔۔۔ لاش کو ہسپتال لایا گیا۔ انتظار بڑھ گیا۔ پھر خبر ملی کہ شناخت نہیں ہو پا رہی، بس غسل دے دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر چہرے کی تصویر وائرل کی گئی کہ کیا کوئی اس کو پہچانتا ہے؟ گاؤں گاؤں خبر پھیل گئی۔ پہلے کہا گیا یہ سہسنہ کوٹلی کا کوئی ہے۔ پھر کہا گیا شناخت ہو گئی ہے۔ پھر کہا گیا نہیں، ابھی نامعلوم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آخرکار انتظا...

یک نکیال، ایک ریاست ، ایک عوام تو دو قانون ، دو نظام اور دوہرے معیار کیوں ہیں ؟؟؟ نکیال کے نوجوانو! اہلِ نکیال! یہ سوال آپ ذہنوں میں آج ہونا چاہیے کہ آخر یہ نظام ہمارے شہر میں کیوں مسلط ہے؟

ایک نکیال، ایک ریاست ، ایک عوام تو دو قانون ، دو نظام اور دوہرے معیار کیوں ہیں ؟؟؟ نکیال کے نوجوانو! اہلِ نکیال! یہ سوال آپ ذہنوں میں آج ہونا چاہیے کہ آخر یہ نظام ہمارے شہر میں کیوں مسلط ہے؟ ۔ کب تک ہم اسے برداشت کرتے رہیں گے؟ یہ دوہرا نظام، یہ دوہرا قانون، یہ دوہرا معیار ۔اس کا خاتمہ ہم ہی کو کرنا ہو گا، اور ابھی کرنا ہو گا۔ یہاں ایک طرف تحصیل و ضلعی انتظامیہ ، ریاستی مشینری ، حکمران طبقات ہیں۔ ان کی جماعتیں، ان کے سہولت کار، ان کے سرکاری ملازمین، اور ان کے اندر گھسے روایتی سیاسی ورکر، جن کے لیے ہر کام جائز ہے، ہر حد پار کرنے کی اجازت ہے۔ چاہے وہ کسی سرکاری تقریب میں ٹیکس کے پیسوں پر عیاشی کریں، سرکاری مشینری کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں، یا چند چہتے تاجروں، چند تابع وکلا اور کچھ کاغذی صحافیوں کو ساتھ ملا کر جو چاہیں کریں۔ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ان کو اوپن چھوٹ ہے۔ کھلا لائسنس ہے کسی قسم کی سرگرمیوں کا۔ تقاریب بھی۔ تقاریر کا ۔۔۔ لیکن جب ہم، جو اس نظام سے بغاوت کرتے ہیں، جو انقلاب چاہتے ہیں، جو عوامی خوابوں کو حقیقت بنانا چاہتے ہیں، جب ہم پرامن طری...

ضمیر کے نام، ایکشن کمیٹی کے سپاہیوں کے نام

ضمیر کے نام، ایکشن کمیٹی کے سپاہیوں کے نام تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ(ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، نکیال کوٹلی) یہ کمیٹی( جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی)...کوئی شخصیت نہیں، کوئی پارٹی نہیں، کوئی وقتی نعرہ نہیں۔.. یہ عوامی، قومی، طبقاتی حقوق کی ناقابلِ مصالحت جدوجہد کا نام ہے۔ یہ ہمارے خوابوں، محرومیوں، نسل در نسل لوٹے گئے وسائل اور پامال کیے گئے حقِ حکمرانی کی بازیافت کی جدوجہد ہے۔ یہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے۔۔۔۔۔۔ جس کی جڑت اتحاد سے ہے، بنیاد اصولوں سے ہے، اور طاقت آپ سے ہے۔یہ کسی ایک فرد، کسی ایک مسلک، کسی ایک سوچ کی جاگیر نہیں۔۔۔ یہ ہر اس انسان کی آواز ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہے، محرومی کے خلاف سینہ تانتا ہے، اور حقوق کے لیے میدان میں ہے۔۔۔ اب وقت ہے… کہ ہمارا رویہ، ہمارا عمل، ہمارا فیصلہ… تحریک کے حق میں ہو ۔۔۔ جان لو! تمہارا ایک ناپختہ قدم۔۔۔ایک جزباتی جملہ۔۔۔ایک غلط ترجیح کمیٹی کی یکجہتی، اتحاد، اور عوامی اعتماد کو چکنا چور کر سکتا ہے۔ تحریکیں نعرے سے نہیں، نظم و ضبط، حکمت عملی، اور ذاتی انا سے بالاتر اجتماعی شعور سے چلتی ہیں ۔ ہماری لڑائی ایک نہیں ۔۔۔ کئی محا...

نکیال ، کیا سرکاری عمارتیں شادی ہال ہیں؟ یونین کونسل ڈبسی کا نوحہ اور عوامی بیداری کی نئی لہر*

نکیال سرکاری عمارات میں شادی اسٹیج ، سامان رکھا جاتا ہے ؟؟؟ *نکیال ، کیا سرکاری عمارتیں شادی ہال ہیں؟ یونین کونسل ڈبسی کا نوحہ اور عوامی بیداری کی نئی لہر* تحریر: کامریڈ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جموں کشمیر قارئین کرام! یونین کونسل ڈبسی آزاد جموں و کشمیر کا وہ علاقہ ہے جہاں قانون کا راج ختم ہو چکا ہے؟ جہاں سرکاری عمارتیں، جو عوامی خدمت کے لیے مختص ہیں، ذاتی کمائی اور کرائے کے کاروبار کی نذر ہو چکی ہیں؟ *جہاں محکمہ زراعت کی عمارت شادیوں کے اسٹیج، ڈیکوریشن اور جہیز کے سامان کا گودام بن چکی ہو؟ جہاں ریاستی ملازمین کی پشت پناہی میں دوکاندار سرکاری دفاتر کو نجی گودام بنا لیں؟* یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔ یہ صرف جرم نہیں، عوامی وسائل کی بے حرمتی ہے۔اس پر سخت صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ۔ یونین کونسل ڈبسی کی عوام، نوجوان، اور بالخصوص جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن عمران نزیر جیسے باشعور جوانوں نے اس بدنما چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے وہ سوالات اٹھائے ہیں جو برسوں سے دفن تھے۔اج عوامی ایکشن کمیٹی ہی ہے جو عوام کو شعور دے کر نظام ...

کیا آزاد جموں و کشمیر پولیس واقعی آزاد ہے؟

کیا آزاد جموں و کشمیر پولیس واقعی آزاد ہے؟ کیا آزاد جموں و کشمیر پولیس واقعی آزاد ہے؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ، سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال آزاد جموں و کشمیر پولیس کا نام آتے ہی عام شہری کے ذہن میں ایک تلخ تاثر ابھرتا ہے۔۔۔۔رشوت، کرپشن، انتقامی کارروائیاں اور سیاسی سہولت کاری۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بدنامی صرف پولیس کی اپنی پیدا کردہ ہے یا یہ اس نظام کا حصہ ہے جسے حکمران طبقات نے دانستہ طور پر بگاڑا؟ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کا محکمہ حکمرانوں کی گرفت میں ہے۔ حکمران جماعتوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اس ادارے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ محکمانہ بیوروکریسی کو ہر طرح کی مراعات حاصل ہیں، لیکن وہ بھی بالا دست طبقے کی نمائندہ ہے۔ اس کے برعکس، نچلے درجے کے پولیس ملازمین، جو محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، شدید مالی اور اخلاقی دباؤ کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر سمن کی تعمیل، قیدیوں کی منتقلی، فرانزک لیبارٹریوں تک رسائی، اور شہادتوں کے لیے طویل سفر جیسے فرائض انجام دینا ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے نہ...

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب

" *راجا فاروق حیدر صاحب! ہم عام آدمی ہیں، تمہارے اقتدار کی بنیاد — اور اب تمہارے تکبر کا احتساب* !" تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ ۔ ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی کبھی کبھی ایک جملہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر راجہ فاروق حیدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ *> "عام آدمی کون ہوتا ہے؟ عام آدمی کو کون پوچھتا ہے؟ وہ صبح کام پر جاتا ہے، شام کو منہ لٹکا کے آ جاتا ہے!* " یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ اُس سوچ کی عکاسی ہے جو خود کو "خاص" سمجھ کر عوام کو محض غلام، نوکر یا تماشائی تصور کرتی ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا یہ تکبر صرف ان کی ذاتی سوچ نہیں، یہ اُس نظامِ سیاست کا گھمنڈ ہے جو استحصالی، مفاد پرست، اور عوام دشمن رویوں سے جنم لیتا ہے۔ جو اشرافیہ/ حکمران طبقات کی سوچ کا مظہر ہے کہ وہ عوام کے بارے حقیقی معنوں میں کیا سوچ رکھتے ہیں ۔ راجہ فاروق حیدر وہ چہرہ ہے جس نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے تلوے چاٹے، جنرل باجوہ کی جھولی میں جا بیٹھے ، مفاد پ...

سیز فائر لائن نکیال: گولے کے ٹکڑے ، گولی کے خول جسموں میں، ریاست کہاں ہے؟ تحریر:

سیز فائر لائن نکیال: گولے کے ٹکڑے ، گولی کے خول جسموں میں، ریاست کہاں ہے؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی، سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال سیز فائر لائن زیرو پوائنٹ پر پر ، نکیال کی واقع وادیوں میں بسا ہر خاندان ایک کہانی ہے۔ گولوں کی گرج، فائرنگ کی سنسناہٹ، اور بنکروں کے سائے میں پلتے بچپن… یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا وہ نوحہ ہے جو سیز فائر لائن کے باسی روز لکھتے ہیں، خون سے۔حالیہ پاک بھارت پروکسی وار پر مبنی جنگی وار سے اب امن ہو چکا ہے ۔ لیکن سیز فائر لائن پر اب بھی ماتم کی فضاء ہے۔ جنگی محرومیوں کا نشانہ بنے عوام آج بھی خوشیوں سے محروم ہیں۔ 2019 میں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری نے نکیال کے کئی معصوموں کو ہمیشہ کے لیے زخمی کر دیا۔ انہی میں سے ایک تیرہ سالہ ملک صغیر ولد عمر فاروق بھی تھا، جسے حال ہی میں شدید تکلیف کے بعد اسپتال لایا گیا۔ الٹرا ساؤنڈ اور اسکین کے بعد انکشاف ہوا کہ اس کے پیٹ میں ابھی تک گولے کے ٹکڑے موجود تھے۔ سات سال بعد اس بچے کا دوبارہ آپریشن ہوا، اور بدن سے زخموں کی گواہیاں نکالی گئیں۔ کیا ...

Not Rations, But Rights for Nakyal! Not Relief, But Transparency and Dignity! Not Charity, But Skills—and Sustainable Livelihoods!

Not Rations, But Rights for Nakyal! Not Relief, But Transparency and Dignity! Not Charity, But Skills—and Sustainable Livelihoods! By Shah Nawaz Ali Sher, Advocate High Court (Member, Joint Awami Action Committee, Nakyal, Kotli) When Saudi Arabia’s King Salman Humanitarian Aid and Relief Centre (KS Relief) announced a $14.2 million food-security package for flood-affected communities across Pakistan, including Azad Jammu & Kashmir, it was seen as a much-needed gesture of solidarity. For Nakyal—located directly along the Ceasefire Line—it should have been a vital moment of support. But once again, the same bitter story repeated itself: favoritism, nepotism, and deliberate exclusion. In Nakyal, government employees and their well-connected relatives swept up the aid before it could reach those who truly needed it. Nakyal has long been on the receiving end of countless relief operations—border packages, disaster aid, charity distributions. But for the majority, this has brought...

نکیال/ کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔

نکیال کو راشن نہیں، حق چاہیے!ریلیف نہیں، شفافیت و خودداری چاہیے! بھکاری نہیں ہنر مند چاہیں ۔ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ (ممبر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال، کوٹلی) سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KS Relief) کی جانب سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے لیے 14.2 ملین ڈالر کا تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ یہ خیرسگالی پر مبنی فوڈ سیکیورٹی پیکج سینکڑوں سیز فائر لائن کے خاندانوں تک پہنچنا تھا۔ لیکن افسوس، تحصیل نکیال میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی — بندربانٹ، اقربا پروری، اور محرومی! تقریبا سرکاری ملازمین نے ہاتھ صاف کر دیا۔ نکیال، جو کہ سیز فائر لائن سے براہِ راست متاثرہ علاقہ ہے، برسوں سے ریلیف، باڈر پیکج، اور خیراتی امداد کا مرکز رہا ہے۔ مگر ان تمام امدادی مراحل میں اکثریت کو محرومی، تذلیل اور نابرابری ہی ملی۔ سعودی امداد ہو یا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا راشن ۔۔۔ نکیال کی عوام کے لیے یہ صرف فوٹو سیشن اور سیاسی نمائش کا ایک اور موقع بن جاتے ہیں۔۔۔۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ام...

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل ثابت ہو گی ؟؟؟

آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت برائے فروخت – سلطانیٔ زر کا نیا موسم۔ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متبادل بنے گی ؟؟؟ تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال پاکستانی زیرانتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابات کے معرکہ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انتخابات؟ نہیں، یہ انتخابی مشق ایک نوآبادیاتی کھیل ہے، جس میں تاش کے پتوں کی طرح سیاسی مہروں کو ترتیب دیا جاتا ہے، عوامی رائے کی بساط پر نہیں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی منصوبہ بندی پر۔ یہاں جمہوریت ایک اسٹیج ڈرامہ ہے، جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مگر اسٹیج اور ہدایتکار وہی رہتے ہیں۔ یہ خطہ، جو "آزاد" کہلاتا ہے، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آزادی پسندوں کے لیے الیکشن لڑنا جرم ہے، کیونکہ یہ خطہ صرف ان کے لیے ہے جو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ جو سوال کرے، جو مزاحمت کرے، اس کے لیے الیکشن میں داخلہ بند ہے، اس کی آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ یہاں وفاداری قابلیت نہیں، بلکہ غلامی، سہولت کاری، مو...

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر

سیز فائر لائن اور ایل او سی کے الفاظ کی حقیقت ۔۔۔۔جموں و کشمیر کے عوامی مؤقف سے فرق کی وضاحت پیش خدمت ہے اس پر غور کریں ۔ تحریر شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نکیال کوٹلی۔ سابق سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن نکیال سیز فائر لائن (Ceasefire Line) اور ایل او سی (Line of Control) محض دو اصطلاحات نہیں بلکہ جموں کشمیر کے مسئلے پر دو متضاد نظریات کی علامتیں ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق صرف لغوی یا عسکری نہیں بلکہ گہرا سیاسی، تاریخی اور نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔ سیز فائر لائن ۔۔۔۔ عوامی نمائندگی اور اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ مؤقف ہے۔ پہلے اس کو سیز فائر لائن ہی کہا جاتا تھا ۔ سیز فائر لائن وہ لکیر ہے جو 1949ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ، جموں کشمیر کے تنازعہ پر جنگ بندی کے بعد کھینچی گئی تھی ۔ یہ لکیر بین الاقوامی طور پر جموں کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ جموں کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے ۔ کو پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر اور ہندوستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کہا جاتا ہے ۔ دونوں مما...